Friday, 14 February 2020

میں کوئی کرپٹ نہیں ہوں اس لیے فوج ساتھ کھڑی ہے


کرپٹ نہیں ہوں اس لیے فوج ساتھ کھڑی ہے میں کوئی
جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے،میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں۔وزیراعظم کی صحافیوں سے گفتگو




14 فروری 2020ء وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج اس لیے میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپٹ نہیں۔تفصیلات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات کے دوران انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف کاروائی کریں گے۔
مولانا نے کہا کہ وہ کسی کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے یہ غداری ہے۔ فیصلہ کر لیا ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ملک میں ہر جگہ کارٹییل ہے جو مرضی سے قیمتوں کو کنٹرول کرتا ہے۔بجلی سے متعلق آئی ایم سے معاملات طے پا جائیں گے۔حکومت عدالت سمیت کسی ادارے کے امور میں بھی مداخلت نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ 22 سال کی محنت کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں۔

دنیا میں سب کم وزیراعظم کی تنخواہ میری ہو گی،مجھ سے بہتر لڑنا اور کوئی نہیں جانتا،انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ کر جاتے تو ڈالر 225 روپے کا ہو جاتا۔ کرپٹ لوگوں سے ریکوری کرنا عدالت اور احتساب کرنے والے اداروں کا کام ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ فوج اس لیے میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپٹ نہیں۔ملٹری ایجنسیز کو معلوم ہوتا ہے کون کیا کر رہا ہے۔
اگر کوئی سیاستدان کرپشن کرتا ہے تو انہیں پتہ چل جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا میری ذات پر حملہ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں۔میڈیا جب ملک پر حملہ کرتا ہے تو مسئلہ ہوتا ہے۔عمران خان نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو پتہ ہے کہ یہ حکومت کامیاب ہوئی گئی تو ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی اور یہ جیلوں میں ہوں گے،وزیراعظم نے مزید کہا کہ آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کچھ سوالات کے ساتھ واپس بھجوائی۔
۔حکومت اور فوج میں کوئی تناؤ نہیں۔میرے کرپٹ نہ ہونے کی وجہ سے فوج ساتھ کھڑی ہے۔جو کرپشن کرتے ہیں فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے،میں نہ کرپٹ ہوں اور نہ ہی پیسے بنا رہا ہوں۔کرپشن کرنے والوں کے ہی فوج سے اختلافات ہوتے ہیں۔فوج کو دبانے کے لیے ان کے خلاف سازش کی جاتی رہی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ سینیٹ میں پیسوں کا استعمال روکنے کے لیے شو آف ہینڈ کا قانون لا رہے ہیں۔




سینئر صحافی ضیا الدین کا تجزیہ
سنئیر صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیاالدین نے وزیر اعظم کی صحافیوں سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ 'وزیر اعظم نے آج صحافیوں سے ملاقات میں دراصل ملکی حالات پر اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی ہے اور دوسری طرف حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہے۔ وہ مہنگائی پر قابو پانا چاہتے ہیں لیکن ناکامی پر وہ ذمہ دار گذشتہ دور حکومت کو گردانتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی مہنگائی اور بجلی و گیس کی بڑھتی قیمتوں پر جب وضاحت دیتے ہیں تو وہ خود کو کینٹینر پر لے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کا کمفرٹ زون ہے اور وہاں وہ کسے کے بھی خلاف بول سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ'وہ آج کے مسائل کو ماضی کی حکومت پر ڈال کر خود کو تسلی دیتے ہیں۔
ضیاالدین کا کہنا تھا کہ 'کرکٹ کھیلنے اور حکومت چلانے میں بڑا فرق ہے۔ عمران خان ملک کے نظام کو نہیں سمجھتے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو اس نظام کا تجربہ تھا لیکن یہ اس سے نا آشنا ہے، نظام نے ان کو رد کر رہا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اگر وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ ملک میں مافیا مہنگائی کر رہا ہے تو بطور وزیر اعظم ان کو علم ہونا چاہیے یہ مافیا کون ہیں تو ان کو پکڑا جائے۔


Previous Post
Next Post

0 comments: